بجلی کے ہر یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس نافذ، اسٹیل صنعت کے لیے ایف بی آر کا نیا آرڈر جاری
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئرن اینڈ اسٹیل سیکٹر کے لیے نیا سیلز ٹیکس جنرل آرڈر (STGO) جاری کرتے ہوئے منتخب اسٹیل مینوفیکچررز، میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس پر بجلی کے استعمال کے ہر یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک میں اسٹیل مصنوعات کی پیداواری لاگت بڑھنے اور تعمیراتی شعبے میں استعمال ہونے والے سریے اور دیگر اسٹیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق اس نئے ٹیکس کا اطلاق آئرن اینڈ اسٹیل سیکٹر سے وابستہ 100 منتخب کمپنیوں پر ہوگا، جن میں مختلف مینوفیکچررز، اسٹیل میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس شامل ہیں۔ متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) ان کمپنیوں کے بجلی کے بلوں میں 5 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس وصول کریں گی۔
حکام کے مطابق یہ اقدام اسٹیل سیکٹر میں ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور دستاویزی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ نئے آرڈر کے تحت ان کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اسکریپ کی درآمد سے متعلق مخصوص شرائط پوری کرتی ہیں، تاکہ ٹیکس نظام میں یکسانیت اور بہتر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
نئے جنرل آرڈر کے مطابق میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس پر اس ٹیکس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، جبکہ اس کی قانونی بنیاد 4 اگست 2026 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کو بنایا گیا ہے۔ ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے ٹیکس نیٹ کو وسعت ملے گی اور اسٹیل انڈسٹری میں محصولات کی وصولی کا نظام مزید مضبوط ہوگا۔
دوسری جانب اسٹیل انڈسٹری سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ بجلی پہلے ہی پیداواری لاگت کا ایک بڑا حصہ ہے، ایسے میں فی یونٹ اضافی سیلز ٹیکس عائد ہونے سے پیداوار مزید مہنگی ہو جائے گی۔ صنعتکاروں کے مطابق اس اضافی مالی بوجھ کا اثر بالآخر مارکیٹ میں فروخت ہونے والی اسٹیل مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے، جس سے تعمیراتی شعبہ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کا مقصد ٹیکس وصولی کو بہتر بنانا ہے، تاہم ضروری ہے کہ صنعتی شعبے پر اضافی بوجھ ڈالتے وقت پیداواری لاگت، سرمایہ کاری اور روزگار پر ممکنہ اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ ان کے مطابق اسٹیل کی قیمتوں میں اضافے سے تعمیراتی منصوبوں کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کے اثرات ہاؤسنگ، انفراسٹرکچر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔








