عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
لندن: عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی جانب بڑھتی ہوئی دلچسپی، امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی اور خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باعث قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال، عالمی معاشی غیر یقینی اور سرمایہ کاروں کے رویے نے بھی سونے کی قیمت کو اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 2.4 فیصد اضافے کے بعد 4,162.83 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دو ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 1 فیصد اضافے کے ساتھ 4,191.90 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔
صرف سونا ہی نہیں بلکہ دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ چاندی کی قیمت 2 فیصد اضافے کے بعد 60.70 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ پلاٹینم 1 فیصد اضافے کے ساتھ 1,751.03 ڈالر فی اونس پر جا پہنچا۔ اسی طرح پیلیڈیم کی قیمت میں بھی 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 1,360.25 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتا رہا۔
مالیاتی ادارے او اے این ڈی اے (OANDA) کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق تیل اور سونے کی قیمتوں کے درمیان تعلق اب بھی برقرار ہے، کیونکہ خام تیل کی قیمتیں عالمی معیشت، مہنگائی اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تیل کی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے کا رخ کرتے ہیں، جس کے باعث اس کی طلب اور قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مزید کمی آتی ہے اور سفارتی پیش رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو عالمی مالیاتی منڈیوں میں نئی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، تاہم موجودہ حالات میں سونے کی قیمتیں مضبوط رہنے کا امکان موجود ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے۔ گزشتہ دو تجارتی سیشنز کے دوران نمایاں گراوٹ کے بعد بھی تیل کی قیمتیں دباؤ کا شکار رہیں، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات میں کچھ کمی آئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں کم رہتی ہیں تو مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ برقرار رہ سکتی ہے۔








