اسحاق ڈار کی اردنی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات میں پیشرفت کا خیرمقدم
عمان: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اردن کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے عمان میں اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور اردن کے درمیان دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران ہونے والی مثبت پیشرفت کو سراہتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس میں سیاسی، دفاعی، اقتصادی، تجارتی، تعلیمی، ثقافتی اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں جاری تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور اردن کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے رابطوں کو جاری رکھا جائے گا، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، افرادی قوت اور تعلیم کے شعبوں میں نئی شراکت داری کے مواقع بھی تلاش کیے جائیں گے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر روابط بڑھانے، تعلیمی تبادلوں، ثقافتی پروگراموں اور مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔ رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اس تعاون سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
اس موقع پر خطے کی موجودہ صورتحال بھی ملاقات کا اہم حصہ رہی۔ دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بگڑتی ہوئی انسانی اور سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کے پرامن حل اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اردنی ہم منصب نے ایران اور امریکہ سے متعلق حالیہ پیش رفت پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے سفارتی مکالمہ، بین الاقوامی قوانین کا احترام اور تمام فریقین کے درمیان تعمیری مذاکرات انتہائی ضروری ہیں۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور اردن کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، باہمی تعاون کو وسعت دینے اور مشترکہ علاقائی و بین الاقوامی امور پر قریبی رابطے برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں اعلیٰ سطح کے تبادلوں اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔






