پاکستان اور ایران کا جلد آزاد تجارتی معاہدے اور سرحدی تجارت کے فروغ پر اتفاق

پاکستان اور ایران کا آزاد تجارتی معاہدہ جلد مکمل کرنے اور سرحدی تجارت کے فروغ پر اتفاق

اسلام آباد: پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور اقتصادی تعاون کو نئی جہت دینے کے لیے اہم فیصلے کر لیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تجارتی کمیٹی (جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی) کے دسویں اجلاس کے تیسرے اور آخری روز متفقہ منٹس پر دستخط کر دیے گئے، جن کے تحت دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے، آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) کو جلد حتمی شکل دینے اور سرحدی تجارت کو مزید آسان بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان موجود تجارتی امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ٹیرف میں مرحلہ وار کمی، کسٹمز کلیئرنس کے نظام کو جدید اور تیز تر بنانے، اور تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور تکنیکی سطح پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

وفاقی وزیر تجارت نے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ سرحد پر مال بردار گاڑیوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تاجروں کو درپیش مشکلات کم ہوں اور سامان کی ترسیل تیز رفتار انداز میں ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ 24 گھنٹے کسٹمز کلیئرنس کی سہولت فراہم کرنے اور پاکستانی بندرگاہوں پر موجود ایرانی کنٹینرز کی بروقت کلیئرنس کے لیے سفارتی ذرائع سے واضح اور مؤثر طریقہ کار وضع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں سرحدی تجارت، بارٹر ٹریڈ، سرمایہ کاری اور بزنس ٹو بزنس روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست روابط، مشترکہ تجارتی نمائشوں، سرمایہ کاری فورمز اور تجارتی وفود کے تبادلوں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ نجی شعبے کو نئی کاروباری مواقع میسر آ سکیں۔

ایرانی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ اگر اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوگا، عوام کی فلاح و بہبود کو فروغ ملے گا اور دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا مشترکہ ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط اقتصادی شراکت داری پورے خطے میں تجارت اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔

تین روزہ مذاکرات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون، سرحدی سہولتوں اور کسٹمز نظام سمیت مختلف شعبوں میں تفصیلی مشاورت کی گئی۔ دونوں ممالک نے اجلاس میں ہونے والے تمام متفقہ فیصلوں پر جلد عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی کمیٹیوں کی سرگرمیاں تیز کرنے، باقاعدہ پیش رفت کا جائزہ لینے اور مستقبل میں بھی قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

More News