کوہاٹ تعلیمی بورڈ نے نہم و دہم کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا

کوہاٹ تعلیمی بورڈ نے نہم و دہم کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا

کوہاٹ: بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (بی آئی ایس ای) کوہاٹ نے نہم اور دہم جماعت کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ نتائج کے مطابق اس سال بھی دہم سائنس گروپ میں کیڈٹ کالج کوہاٹ کے طلبہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی تینوں پوزیشنیں اپنے نام کر لیں، جبکہ آرٹس گروپ میں طالبات نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔

بورڈ کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق دہم سائنس گروپ میں کیڈٹ کالج کوہاٹ کے طالب علم مہیمن سراج نے 1165 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن اپنے نام کی۔ اسی ادارے کے احمد زیب خان نے 1164 نمبروں کے ساتھ دوسری جبکہ حنزلہ سلمان نے 1154 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ تینوں طلبہ کی شاندار کامیابی پر تعلیمی حلقوں اور والدین نے انہیں مبارکباد پیش کی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

دوسری جانب دہم آرٹس گروپ میں گورنمنٹ ہائی اسکول میاں جی کی طالبہ مریم صادق نے 1091 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول محمد حسین، میلہ درہ آدم خیل کی طالبہ حبیبہ نے 1060 نمبر لے کر دوسری جبکہ اسی اسکول کی طالبہ صدف نے 1044 نمبروں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔ طالبات کی نمایاں کامیابی کو علاقے میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق دہم سائنس گروپ کے امتحانات میں مجموعی طور پر 46 ہزار 812 طلبہ و طالبات نے شرکت کی، جن میں سے 21 ہزار 820 کامیاب قرار پائے۔ اسی طرح نہم سائنس گروپ کے امتحانات میں 41 ہزار 471 امیدوار شریک ہوئے، جن میں سے 12 ہزار 826 کامیاب رہے۔

بی آئی ایس ای کوہاٹ کے مطابق نہم اور دہم جماعت کے سالانہ امتحانات 2026 میں مجموعی طور پر 97 ہزار 74 طلبہ و طالبات نے حصہ لیا، جن میں سے 37 ہزار 878 امیدوار کامیاب قرار پائے۔ اس طرح امتحانات کا مجموعی کامیابی کا تناسب 39.01 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

نتائج کے اعلان کے بعد طلبہ و طالبات اور ان کے اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف تعلیمی اداروں میں کامیاب طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے تقریبات کا انعقاد بھی کیا گیا، جبکہ اساتذہ نے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ محنت، لگن اور مستقل مزاجی ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق پوزیشن ہولڈرز کی کامیابی دیگر طلبہ کے لیے بھی ایک مثال ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کامیاب طلبہ مستقبل میں بھی اپنی تعلیمی کارکردگی برقرار رکھتے ہوئے ملک و قوم کا نام روشن کریں گے، جبکہ بورڈ انتظامیہ نے امتحانات کے شفاف انعقاد اور بروقت نتائج کے اعلان کو اپنی ترجیحات کا حصہ قرار دیا۔

More News