پاکستان کے پہلے قمری روور کا نام جناح-1 رکھ دیا گیا
پاکستان کے خلائی تحقیق کے سفر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سپارکو نے ملک کے پہلے قمری روور کا سرکاری نام جناح-1 رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان 13 اگست 2026 کو کیا گیا۔ سپارکو کے مطابق یہ نام ملک گیر مقابلے کے ذریعے موصول ہونے والی ہزاروں تجاویز میں سے منتخب کیا گیا۔
قمری روور کے نام کے لیے سپارکو کو ملک بھر سے 4 ہزار سے زائد تجاویز موصول ہوئیں۔ ان میں جناح-1 نام سات مختلف شرکاء نے تجویز کیا تھا۔ فاتح کے انتخاب کے لیے قرعہ اندازی کی گئی، جس میں بہاول نگر سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ طیب کریم کو کامیاب قرار دیا گیا۔
چیئرمین سپارکو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناح-1 کا نام بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نام پاکستان کے عزم، ترقی اور خلائی تحقیق کے نئے افق کی علامت بھی ہے۔
سپارکو کے مطابق پاکستان کا پہلا قمری روور 2029ء میں چین کے چانگ ای-8 مشن کے ذریعے چاند پر روانہ کیا جائے گا۔ جناح-1 کو چاند کے جنوبی قطب پر سائنسی تحقیق کے لیے استعمال کیا جائے گا، جہاں یہ مختلف اہم سائنسی معلومات جمع کرنے میں کردار ادا کرے گا۔
پاکستانی ساختہ روور چاند کی سطح پر پلازما، تابکاری اور سطحی جغرافیہ کا مطالعہ کرے گا۔ اس تحقیق سے چاند کے ماحول اور سطح کے بارے میں سائنسی معلومات حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ مستقبل میں یہ ڈیٹا قمری تحقیق اور چاند پر انسانی موجودگی سے متعلق منصوبوں کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
جناح-1 کا منصوبہ پاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے ایک نمایاں سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مشن کے ذریعے پاکستان نہ صرف قمری تحقیق میں اپنا کردار بڑھانے کی کوشش کرے گا بلکہ نوجوانوں میں سائنس، ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کے شعبوں میں دلچسپی کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔
یہ منصوبہ پاکستان کے سائنسی اور تکنیکی سفر میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، جو ملک کو عالمی خلائی تحقیق میں مزید نمایاں مقام حاصل کرنے کی جانب لے جا سکتا ہے۔





