اقوام متحدہ اور ایف پی سی سی آئی کا کاروباری برادری کو انسانی امدادی اقدامات سے جوڑنے پر اتفاق

اقوام متحدہ اور ایف پی سی سی آئی کا کاروباری برادری کو انسانی امدادی اقدامات سے جوڑنے پر اتفاق

کراچی: پاکستان میں اقوام متحدہ اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے کاروباری برادری کو انسانی امداد، بحرانوں سے نمٹنے اور بحالی کے اقدامات سے جوڑنے کے لیے تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاق صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ کے درمیان ملاقات میں سامنے آیا۔ ملاقات کے دوران پاکستان میں انسانی امداد، ہنگامی حالات سے نمٹنے، نجی شعبے کے کردار اور اقوام متحدہ و پاکستانی کاروباری برادری کے درمیان تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

عاطف اکرام شیخ نے پاکستان کا مثبت تشخص عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو انسانی امدادی سرگرمیوں اور بحرانوں سے نمٹنے کے عمل میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ کاروباری برادری نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے بلکہ مشکل حالات میں انسانی خدمت کے لیے بھی اپنا کردار ادا کررہی ہے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ اور ایف پی سی سی آئی کے درمیان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق قدرتی آفات، ہنگامی حالات اور دیگر بحرانوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے حکومت، اقوام متحدہ، انسانی امدادی تنظیموں اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے پاس وسائل، لاجسٹک صلاحیت اور انتظامی تجربہ موجود ہے، جسے ہنگامی صورتحال میں متاثرہ افراد تک امداد کی فراہمی اور بحالی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے کہا کہ بحرانوں کے دوران نجی شعبہ فوری امداد، بحالی اور طویل مدتی رزیلینس بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ پاکستان میں بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے کاروباری برادری کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

محمد یحییٰ نے مزید کہا کہ ایف پی سی سی آئی اور اقوام متحدہ کے درمیان مضبوط شراکت داری انسانی امداد، ہنگامی ردعمل اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

More News