لاہور فائرنگ میں شہید 3 پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا، اعلیٰ سول و عسکری حکام کی شرکت
لاہور میں فائرنگ کے واقعے میں شہید ہونے والے پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر عدیل عاشق، ہیڈ کانسٹیبل اسد اور کانسٹیبل حارث سلیم کی نمازِ جنازہ پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ میں کور کمانڈر لاہور، صوبائی وزیر خزانہ، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری داخلہ پنجاب، آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔
پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید اہلکاروں کے جسد خاکی کو سلامی پیش کی۔ کور کمانڈر لاہور نے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی جانب سے شہدا کی میتوں پر پھول چڑھائے، جبکہ دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور فاتحہ خوانی کی۔
نماز جنازہ کے بعد کور کمانڈر لاہور، آئی جی پنجاب اور دیگر حکام نے شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان سے اظہار تعزیت کیا۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ شہدا کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
پنجاب پولیس کے مطابق تینوں اہلکار گزشتہ شب ریحان بٹ اور اس کے ساتھیوں کی مبینہ فائرنگ میں شہید ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سب انسپکٹر عدیل عاشق کو اس سے قبل بھی مبینہ طور پر فون پر دھمکیاں دی جاتی رہی تھیں اور ان کی مدعیت میں ملزم کے خلاف مقدمہ بھی درج تھا۔
پولیس حکام کے مطابق ریحان بٹ مبینہ طور پر اپنے بھائی فیضان بٹ کی ہلاکت پر رنجش رکھتا تھا۔ پولیس کے مطابق فیضان بٹ ایک مبینہ شوٹر تھا جو 2024 میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے ساتھ ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ حکام کے مطابق ریحان بٹ کو شبہ تھا کہ اس کے بھائی کی ہلاکت میں سب انسپکٹر عدیل عاشق کا کردار تھا، جس کے باعث وہ پولیس کے خلاف مبینہ مخاصمت رکھتا تھا۔
پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق نماز جنازہ کے بعد تینوں شہید اہلکاروں کی میتیں مکمل پولیس پروٹوکول کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئیں، جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔







