ایرانی صدر نے مہنگائی کا ذمہ دار امریکی پابندیوں کو قرار دے دیا

ایرانی صدر نے مہنگائی کا ذمہ دار امریکی پابندیوں کو قرار دے دیا

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں بڑھتی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا ذمہ دار امریکی پابندیوں، ناکہ بندی اور تیل کی برآمدات میں کمی کو قرار دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صدر کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کے لیے تیل فروخت کرنا مشکل ہوگیا ہے، جبکہ بندرگاہوں میں رکاوٹوں سے درآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ماضی میں بحری جہازوں کے ذریعے سامان نسبتاً آسانی سے ایران پہنچ جاتا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں طویل بحری راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان اضافی اخراجات کا براہِ راست اثر درآمدی اور تیار شدہ اشیا کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایرانی صدر کے مطابق دوسری جانب ملکی آمدنی میں کمی نے بھی معاشی صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد فیکٹریوں کو نقصان پہنچنے کے باعث حکومت کو متاثرہ صنعتی یونٹس کو دوبارہ فعال رکھنے اور انہیں چلانے کے لیے اضافی مالی وسائل فراہم کرنا پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ معاشی دباؤ کے نتیجے میں حکومت کی ٹیکس وصولیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، جس سے سرکاری آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تیل کی برآمدات میں شدید کمی کو بھی انہوں نے ایران کی مالی مشکلات کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔

ایرانی صدر کے مطابق پابندیوں اور تجارتی مشکلات نے معیشت کے مختلف شعبوں کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات عوام کی روزمرہ زندگی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ درآمدی لاگت میں اضافہ، صنعتی سرگرمیوں میں مشکلات اور آمدنی میں کمی نے مہنگائی کے دباؤ کو بڑھایا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی معیشت طویل عرصے سے امریکی پابندیوں اور دیگر بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، تاہم موجودہ حالات میں تیل کی فروخت، تجارت اور درآمدات میں رکاوٹیں حکومت کے لیے اضافی چیلنج بن گئی ہیں۔

ایرانی صدر نے معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے اقدامات کا عندیہ بھی دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والے مسائل نے معاشی بحالی کے عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔

More News