پاکستان اور سپین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں، سفیر

پاکستان اور سپین کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع، سفیر

اسلام آباد: سپین کے سفیر کارلوس آراگون گل ڈی لا سرنا نے کہا ہے کہ پاکستان اور سپین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھا کر باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

سپین کے سفیر نے یہ بات راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر تاجروں سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں پاکستان اور سپین کے درمیان کاروباری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نجی شعبہ بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔

ملاقات کو حالیہ پاک سپین مشاورت کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا گیا، جس میں زراعت کے شعبے میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر غور کیا گیا ہے۔ اس ورکنگ گروپ کے ذریعے زرعی شعبے میں تعاون کو منظم انداز میں آگے بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تجربات کے تبادلے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان نے سپین کی مارکیٹ میں چاول، ایتھنول، آلو اور مکئی کی برآمدات بڑھانے کے امکانات بھی اجاگر کیے۔ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پہلے ہی سپین کو برآمد کی جانے والی اہم اشیا میں شامل ہیں، جبکہ دیگر زرعی اور صنعتی مصنوعات کے لیے بھی سپین کی مارکیٹ تک رسائی بڑھانے کے امکانات موجود ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان اور آر سی سی آئی کے صدر عثمان شوکت نے سپین کے سفیر کو پاکستان میں تیار کیا گیا فٹ بال پیش کیا، جو فیفا ورلڈ کپ کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس موقع پر پاکستان کی عالمی معیار کا کھیلوں کا سامان تیار کرنے کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

سپین کے سفیر نے آر سی سی آئی کی یوم آزادی کی تقریبات اور کیک کاٹنے کی تقریب میں بھی شرکت کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان عوامی، ثقافتی اور سفارتی روابط کی گرمجوشی کا اظہار ہوا۔

آر سی سی آئی کے صدر عثمان شوکت نے کہا کہ پاکستان اور سپین کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے کاروباری روابط، مارکیٹ تک رسائی، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپین پاکستانی ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات کے لیے ایک اہم مارکیٹ بن سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید زراعت، پریسیژن فارمنگ، آبپاشی کے مؤثر نظام، زرعی مشینری، گرین ہاؤس ٹیکنالوجی اور پانی کے بہتر انتظام کے شعبوں میں سپین کی مہارت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ آر سی سی آئی نے دونوں ممالک کے اداروں اور نجی شعبے کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور باہمی مفاد کے لیے اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

More News