خلیجی ممالک کا ایران سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی پر شدید عدم اطمینان
اسلام آباد: خلیجی ممالک نے ایران سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی تنازع کے باوجود امن کے حصول میں ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین سمیت بعض خلیجی ریاستیں صدر ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسیوں کو متضاد قرار دے کر نالاں ہیں۔ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی خطے کے امن و استحکام کے لیے مزید خطرات پیدا کرسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی جاری رکھنے کے جواز پر بھی سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔ خلیجی ریاستیں ایک جانب امریکا کے ساتھ اپنے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو اہم سمجھتی ہیں، تاہم دوسری جانب خطے میں کسی ممکنہ بڑے فوجی تنازع کے اثرات کے حوالے سے بھی شدید تشویش کا شکار ہیں۔
خلیجی ممالک کے لیے ایران کے ساتھ کشیدگی صرف سکیورٹی کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے معاشی اور تجارتی اثرات بھی اہم ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے توانائی کی ترسیل، عالمی تجارت اور سمندری راستوں کی سلامتی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف دباؤ مزید بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ فاکس نیوز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر مزید سخت معاشی دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ تہران کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے معاشی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف اپنی پالیسی میں معاشی دباؤ کو ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں بحری آمدورفت میں کمی نے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد اسے امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔ ان کے اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود سیاسی اور سفارتی کشیدگی کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ سکیورٹی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ کسی ممکنہ وسیع تر تنازع کے اثرات سے کیسے محفوظ رہیں۔ موجودہ صورتحال میں خلیجی ریاستیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی خواہاں دکھائی دیتی ہیں۔








