خیبرپختونخوا میں جعلی اور ملاوٹ شدہ ادویات کی فروخت پر سزائیں مزید سخت کرنے کی تجویز

خیبرپختونخوا میں جعلی اور ملاوٹ شدہ ادویات کی فروخت پر سزائیں مزید سخت کرنے کی تجویز

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے جعلی، ملاوٹ شدہ اور غیر رجسٹرڈ ادویات کی فروخت کے خلاف قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے لیے خیبرپختونخوا ڈرگ ترمیمی بل 2026 صوبائی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے۔

مجوزہ بل میں جعلی، ملاوٹ شدہ، غیر رجسٹرڈ اور بغیر لائسنس ادویات کی فروخت پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ بل کے مطابق غیر رجسٹرڈ یا بغیر لائسنس ادویات فروخت کرنے پر 10 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔

جعلی دوا بیچنے پر 7 سال قید

مجوزہ قانون کے تحت جعلی اور ملاوٹ شدہ ادویات فروخت کرنے والوں کے لیے بھی سخت سزا تجویز کی گئی ہے۔ ایسی ادویات کی فروخت پر 7 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکے گا۔

اسی طرح ڈرگ انسپکٹر کے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ اس جرم پر ایک سال تک قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔

بل میں ڈرگ ایکٹ کے 3 رولز کی خلاف ورزی پر بھی سخت سزا رکھی گئی ہے، جس کے تحت 5 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔

سزا کے بعد بھی غیر رجسٹرڈ دوا فروخت کرنے پر 2 کروڑ جرمانہ

مجوزہ بل میں ایسے عناصر کے لیے مزید سخت کارروائی کی تجویز دی گئی ہے جو سزا کے باوجود غیر رجسٹرڈ ادویات کی فروخت جاری رکھیں۔

ایسے افراد پر 2 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا، جبکہ غلط نام سے دوا فروخت کرنے پر 10 سال قید اور ڈیڑھ کروڑ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

ادویات کے معیار کی جانچ بھی سخت ہوگی

مجوزہ قانون کے مطابق کوالٹی کنٹرول بورڈ کو کسی بھی دوا کے تجزیے کے لیے اسے بیرونِ ملک موجود لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لیے بھجوانے کا اختیار بھی دیا جائے گا۔

اس اقدام کا مقصد ادویات کے معیار، اجزا اور ان کی قانونی حیثیت کی جانچ کو مزید مؤثر بنانا ہے تاکہ مارکیٹ میں غیر معیاری اور جعلی ادویات کی روک تھام کی جاسکے۔

مجوزہ بل میں خصوصی ڈرگ چیئرمین کا عہدہ بھی تجویز کیا گیا ہے، جس کا درجہ ہائیکورٹ کے جج کے برابر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے قانون میں مجوزہ ترامیم کا بنیادی مقصد جعلی اور غیر معیاری ادویات کے کاروبار کی حوصلہ شکنی اور عوام کو محفوظ و معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

اگر بل منظور ہوجاتا ہے تو جعلی، ملاوٹ شدہ، غیر رجسٹرڈ اور بغیر لائسنس ادویات کی فروخت میں ملوث افراد کے لیے قید کے ساتھ بھاری مالی جرمانوں کا نیا سخت قانونی نظام نافذ ہوجائے گا۔

More News