پاکستان کی امریکا کو 10 ارب ڈالرز فسیلیٹی کی درخواست، وزارت خزانہ کی تصدیق

پاکستان کی امریکا سے 10 ارب ڈالر کی فسیلیٹی کی درخواست، وزارت خزانہ کی تصدیق

پاکستان نے معاشی استحکام اور مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فسیلیٹی کی درخواست کردی ہے، جس کی وزارت خزانہ نے بھی تصدیق کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان اس معاملے پر بات چیت جاری ہے اور واشنگٹن کی جانب سے ستمبر تک درخواست پر پیش رفت متوقع ہے۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے 10 ارب ڈالر کی فسیلیٹی کے حصول کی درخواست امریکا کے محکمہ خزانہ کے پاس موجود ہے۔ اس سہولت کا مقصد ملک کی مالی اور معاشی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کرنا اور بیرونی مالی دباؤ کو کم کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ صرف نئی مالی سہولت کے حصول تک محدود نہیں بلکہ موجودہ دوطرفہ قرضوں کی مدت میں توسیع کے لیے بھی مذاکرات کررہا ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ دوطرفہ قرضوں کی ادائیگی کی مدت کو بڑھا کر 10 سال تک کیا جائے، تاکہ ملکی معیشت پر فوری مالی بوجھ کم کیا جاسکے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید گنجائش پیدا ہو۔

حکام کے مطابق اس سلسلے میں امریکی اداروں کے ساتھ مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔ پاکستان امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک، جسے امریکی ایگزیم بینک کہا جاتا ہے، سمیت دیگر متعلقہ مالیاتی اداروں سے بھی رابطے میں ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکا کے تعاون سے پاکستان کو مالیاتی استحکام کے لیے اضافی سہولت حاصل ہونے کی امید ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کو اس وقت بیرونی ادائیگیوں، قرضوں کی واپسی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے اضافی مالی گنجائش درکار ہے۔ ایسے میں امریکا سے ممکنہ مالی سہولت اور دوطرفہ قرضوں کی مدت میں توسیع پاکستان کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے پاکستان کی درخواست کا جائزہ لیا جارہا ہے اور ستمبر تک اس معاملے میں پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔ تاہم فسیلیٹی کی حتمی منظوری، شرائط اور رقم کی فراہمی سے متعلق تفصیلات آئندہ مذاکرات میں طے کی جائیں گی۔

پاکستان کی جانب سے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے، بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے اور آئندہ برسوں میں قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ کم کرنے کے لیے مختلف مالیاتی آپشنز پر کام کررہی ہے۔ امریکی حکام کے فیصلے اور مذاکرات کے نتائج آنے والے دنوں میں پاکستان کی مالی پوزیشن پر اہم اثر ڈال سکتے ہیں۔

More News