پیٹرول کی قیمت میں 130 روپے 75 پیسے ٹیکس اور مارجنز، شہریوں پر اضافی بوجھ

پیٹرول کی قیمت میں 130 روپے 75 پیسے ٹیکس اور مارجنز، شہریوں پر اضافی بوجھ

اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بنیادی لاگت کے علاوہ بھاری ٹیکسز، لیوی اور مختلف مارجنز بھی شامل ہونے سے شہریوں کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول پر صارفین مجموعی طور پر 130 روپے 75 پیسے لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی مد میں ادا کر رہے ہیں۔ اس اضافی رقم کے باعث پیٹرول کی حتمی قیمت بنیادی لاگت کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 245 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہے، جبکہ اس کی مقررہ قیمت 368 روپے 29 پیسے فی لیٹر ہے۔ یوں ایک لیٹر ڈیزل پر 122 روپے 47 پیسے لیوی، ٹیکسز اور مارجنز کی صورت میں شامل ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی محصولات کا اثر صرف گاڑی چلانے والے صارفین تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور مجموعی پیداواری لاگت پر بھی پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے باعث عوام مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز اور لیوی کا بھاری بوجھ عام آدمی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

More News