ہری پور: ایت نور کیس، ڈی پی او کی اہم پریس کانفرنس
ہری پور میں ڈی پی او شفیع اللہ گنڈاپور نے ایت نور کیس کی تفتیش سے متعلق اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیس کی تفتیش میں کسی قسم کی لاپرواہی نہیں برتی گئی۔ کیس کی تحقیقات کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں سی ٹی ڈی ہزارہ کی ٹیم بھی شامل تھی۔
ڈی پی او کے مطابق تفتیشی ٹیم نے ۲۰۰ سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیجز اور ۲۰ مشکوک موبائل نمبرز کا جائزہ لیا، جبکہ فوٹیجز کی مدد سے تین ملزمان کی نشاندہی ہوئی۔ مرکزی ملزم عثمان نے جرم کا اعتراف کیا اور جج کے روبرو بھی اقبالِ جرم کیا۔
شفیع اللہ گنڈاپور کے مطابق بچی کو گھر سے لے جانے والے بچے کو ٹریس کیا گیا، جس کی نشاندہی پر ایت نور کو کنویں سے برآمد کیا گیا۔ ریسکیو ۱۱۲۲ نے بچی کو کنویں سے نکالا، جبکہ ڈاکٹروں کی موجودگی میں ڈی این اے سمیت دیگر شواہد اور نمونے حاصل کیے گئے۔
ڈی پی او نے کہا کہ کیس کی تفتیش تاحال جاری ہے اور تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کے دور میں بچوں کی سرگرمیوں اور نقل و حرکت پر خصوصی نظر رکھیں، جبکہ عوام سے پولیس کا ساتھ دینے کی اپیل بھی کی۔





