جاپان کی 2.5 ارب روپے کی ہیلتھ امداد خطرے میں، خیبرپختونخوا میں منصوبہ تاخیر کا شکار

جاپان کی 2.5 ارب روپے کی ہیلتھ امداد خطرے میں، خیبرپختونخوا میں منصوبہ تاخیر کا شکار

پشاور: خیبرپختونخوا میں زچہ و بچہ کی صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے جاپان کی جانب سے فراہم کی جانے والی 2.5 ارب روپے سے زائد کی امداد انتظامی تاخیر کے باعث منسوخی کے خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔

جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (JICA) نے خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت سے منصوبے کے آغاز کے لیے زیر التوا کارروائی فوری مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جائیکا نے محکمہ صحت کو ہدایت کی ہے کہ نیشنل بینک آف پاکستان (NBP) کے ساتھ ضروری انتظامات مکمل کرکے منصوبے کے لیے مطلوبہ بینک اکاؤنٹ جلد از جلد کھولا جائے۔

جائیکا کی جانب سے سیکریٹری صحت کو ارسال کیے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ صحت اور نیشنل بینک کے درمیان ضروری بینکاری کارروائی مکمل نہ ہونے کے باعث منصوبے پر عملی پیش رفت نہیں ہو رہی۔

ذرائع کے مطابق نیشنل بینک کو بینکاری کمیشن کی ادائیگی بھی تاحال زیر التوا ہے، جس کے باعث اکاؤنٹ کھولنے سمیت دیگر ضروری مراحل مکمل نہیں کیے جاسکے۔

یہ منصوبہ دسمبر 2024 میں امدادی معاہدے پر دستخط کے بعد سے ہی مختلف انتظامی اور طریقہ کار کی رکاوٹوں کے باعث تاخیر کا شکار ہے۔ اب جائیکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضروری کارروائی بروقت مکمل نہ کی گئی تو منصوبہ منسوخ ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

جاپانی امداد کا مقصد خیبرپختونخوا میں ماؤں اور بچوں کے لیے صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔ اس لیے متعلقہ حکام پر زور دیا گیا ہے کہ بینکاری اور انتظامی معاملات فوری حل کرکے منصوبے کو عملی شکل دی جائے تاکہ اہم طبی سہولیات کی بہتری کے لیے مختص امداد ضائع ہونے سے بچ سکے۔

More News