پمز نرسری میں آتشزدگی، 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر وزیراعظم کا ہنگامی اجلاس طلب
اسلام آباد: پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں واقعے کی وجوہات، امدادی کارروائیوں، حفاظتی انتظامات اور ممکنہ غفلت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ہنگامی اجلاس میں وزارت صحت، پمز ہسپتال کی انتظامیہ، ضلعی انتظامیہ، پولیس، فائر بریگیڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام شریک ہوں گے۔ حکام وزیراعظم کو آتشزدگی کے واقعے، ریسکیو آپریشن اور ہسپتال میں موجود فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پہلے ہی فوری تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کیا جائے اور اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی سامنے آئے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو بھی فوری طور پر اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال پہنچ کر صورتحال کا خود جائزہ لیں گے اور وزیراعظم کو واقعے اور ہسپتال میں جاری اقدامات سے متعلق رپورٹ پیش کریں گے۔
اجلاس میں یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ نرسری میں آگ کس طرح لگی، کتنی تیزی سے پھیلی، فائر سیفٹی کے انتظامات کس حد تک مؤثر تھے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کیا اقدامات کیے گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جاں بحق بچوں کے والدین اور اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے نومولود بچوں کی ہلاکت کو انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ تلافی سانحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تحقیقات کے ذریعے اصل حقائق سامنے لائے جائیں گے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے ابتدائی بیان کے مطابق چلڈرن وارڈ میں آکسیجن کی موجودگی کے باعث آگ نے تیزی سے شدت اختیار کی اور صورتحال قابو سے باہر ہوگئی۔ واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جبکہ جاں بحق بچوں کی شناخت کے لیے بچوں اور ان کے والدین کے ڈی این اے نمونے لینے کا عمل بھی کیا جائے گا۔
وزیراعظم کی جانب سے طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل اور ذمہ داری کے تعین سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔





