آزاد کشمیر میں ہڑتال سے معمولات زندگی متاثر، متوسط اور مزدور طبقہ مشکلات کا شکار
مظفرآباد:ویب ڈیسک
آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال اور جاری احتجاجی سرگرمیوں کے باعث معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ متوسط اور مزدور طبقے کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کاروباری سرگرمیاں محدود ہونے اور بازاروں کی بندش کے باعث روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے اثرات سب سے زیادہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، چھوٹے دکانداروں اور محدود آمدنی رکھنے والے افراد پر پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدوری کرکے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے والے افراد آمدنی سے محروم ہو رہے ہیں، جس سے ان کے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
متعدد شہریوں نے شکایت کی ہے کہ بعض علاقوں میں دکانوں کی بندش کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیاء کی خریداری میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروباری مراکز بند ہونے سے نہ صرف تاجروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے بلکہ عام صارفین کو بھی ضروری اشیاء کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث مقامی معیشت متاثر ہو رہی ہے اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مسلسل ہڑتالوں اور احتجاجی سرگرمیوں سے ان کی آمدنی میں کمی آ رہی ہے، جبکہ پہلے سے موجود معاشی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے عوام امن، استحکام اور ترقی کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عام شہری انتشار اور کشیدگی کے بجائے ایسے ماحول کو ترجیح دیتے ہیں جہاں کاروبار، تعلیم اور روزمرہ زندگی بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔
بعض شہریوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں اور دونوں کے درمیان تعلق صرف جغرافیائی نہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور جذباتی بنیادوں پر قائم ہے۔ ان کے مطابق خطے میں امن اور استحکام کا فروغ عوامی مفاد میں ہے اور تمام مسائل کو مذاکرات اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے۔
مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ عوامی مسائل، معاشی مشکلات اور احتجاجی معاملات کا ایسا حل تلاش کیا جائے جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی کم سے کم متاثر ہو اور کاروباری و معاشی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہ سکیں۔








