آن لائن جنسی بلیک میلنگ اور مالی فراڈ کا بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب، 114 غیر ملکی گرفتار
اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) اسلام آباد نے آن لائن جنسی بلیک میلنگ اور مالی فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 114 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کرلیا ہے۔
دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق گرفتار افراد میں 111 چینی اور 3 ویتنامی شہری شامل ہیں۔ این سی سی آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران ایک ایسے گروہ کا سراغ ملا جو مبینہ طور پر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے شہریوں کو جنسی گفتگو میں الجھا کر بلیک میل کرتا اور سائبر رومانس کے نام پر مالی فراڈ کرتا تھا۔
حکام کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر ایک آئی ٹی کمپنی کی آڑ میں سائبر کرائم سے متعلق سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی تھیں۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ گروہ آن لائن ویڈیو چیٹس اور مبینہ نازیبا مواد کو استعمال کرتے ہوئے افراد کو نشانہ بناتا تھا۔
این سی سی آئی اے نے گرفتار ملزمان کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) اور تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ادارے کی جانب سے گرفتار افراد کے ڈیجیٹل اور مالیاتی نیٹ ورک کی چھان بین جاری ہے تاکہ مبینہ سرگرمیوں کے دائرہ کار اور مالی لین دین سے متعلق مزید شواہد سامنے لائے جاسکیں۔
این سی سی آئی اے پاکستان میں سائبر جرائم، آن لائن فراڈ، ہراسانی اور دیگر ڈیجیٹل جرائم کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مجاز ادارہ ہے۔ ادارے کے مطابق مالی فراڈ کی شکایات میں شہریوں کو مشکوک لنکس پر کلک نہ کرنے، حساس مالی معلومات شیئر نہ کرنے اور رقم منتقل کرنے سے قبل وصول کنندہ کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں، سہولت کاروں اور دیگر متاثرین کی شناخت کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔ تفتیش کار مبینہ نیٹ ورک کے مالی معاملات، ڈیجیٹل رابطوں اور استعمال کیے جانے والے آن لائن پلیٹ فارمز کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
این سی سی آئی اے کے مطابق سائبر فراڈ اور بلیک میلنگ کے ایسے جرائم میں ڈیجیٹل شواہد اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے تحقیقات کے دوران الیکٹرانک آلات، مالیاتی ریکارڈ اور آن لائن رابطوں کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف مقدمات میں مزید دفعات اور ممکنہ سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ تحقیقات کی پیش رفت کی روشنی میں کیا جائے گا۔
ملک میں بڑھتے ہوئے آن لائن فراڈ کے تناظر میں شہریوں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ایسے افراد سے جو سوشل میڈیا یا ویڈیو چیٹ کے ذریعے غیر معمولی قربت پیدا کرکے بعد میں ذاتی معلومات، رقم یا دیگر مطالبات سامنے لاتے ہیں۔





