افغان تاجر اور خاندان کے ویزا توسیع کیس پر پشاور ہائیکورٹ کا اہم حکم، 15 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت
پشاور ہائیکورٹ نے افغان تاجر اور ان کے خاندان کی ویزا مدت میں توسیع نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو زیرِ التوا درخواستوں پر 15 دن کے اندر قانون کے مطابق تفصیلی فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواستوں کو غیر ضروری طور پر زیرِ التوا نہیں رکھا جاسکتا۔
عدالت عالیہ کے تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزار پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ ان کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وہ وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ رجسٹرڈ ٹیکس دہندہ ہیں، ان کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر (NTN) موجود ہے، جبکہ وہ سرحد چیمبر آف کامرس کے رکن بھی ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ، اسلام آباد کی جانب سے درخواست گزار اور ان کے خاندان کی ویزا توسیع کی درخواستوں پر بروقت فیصلہ نہیں کیا گیا۔ عدالت کے مطابق درخواستوں پر فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے درخواست گزاروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ویزا توسیع کی درخواستوں کا مناسب وقت کے اندر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
عدالت کے مطابق درخواست گزاروں نے ویزا مدت ختم ہونے کے بعد بھی توسیع کے لیے باقاعدہ درخواستیں جمع کرائی تھیں، تاہم ان درخواستوں پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔ پشاور ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ درخواستوں اور دستیاب ریکارڈ کا قانون کے مطابق جائزہ لے کر 15 روز کے اندر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ درخواست گزاروں کی درخواستوں پر فیصلہ کرتے وقت متعلقہ حکام قانون اور دستیاب ریکارڈ کو مدنظر رکھیں۔ اس طرح عدالت نے براہِ راست ویزا توسیع کی منظوری دینے کے بجائے متعلقہ امیگریشن حکام کو زیرِ التوا درخواستوں پر مقررہ مدت میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں افغان شہریوں کے ویزا اور امیگریشن معاملات مسلسل اہمیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کاروبار سے وابستہ افغان شہریوں کے لیے ویزا معاملات میں بروقت فیصلے نہ ہونے سے کاروباری سرگرمیوں، سفری معاملات اور خاندانوں کے انتظامی امور متاثر ہوسکتے ہیں۔
پشاور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد اب متعلقہ امیگریشن حکام کو درخواست گزار اور ان کے خاندان کی زیرِ التوا ویزا توسیع درخواستوں پر مقررہ مدت کے اندر قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرنا ہوگا۔








