احتجاج کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا کے پی چیف سیکرٹری اور آئی جی سے بیانِ حلفی طلب

احتجاج کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا کے پی چیف سیکرٹری اور آئی جی سے بیانِ حلفی طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سے پیر تک بیانِ حلفی طلب کرلیا۔ عدالت نے فریقین کو جواب الجواب جمع کرانے کی اجازت دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پر ابتدائی اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک محدود ہے اور دیگر صوبوں کے افسران کو ہدایات دینا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور متعلقہ سیاسی جماعت کو بھی کیس میں فریق بنانے کی استدعا کی۔ انہوں نے احتجاج، لانگ مارچ، کنٹینرز کی تنصیب اور شہریوں کے حقوق سمیت مختلف معاملات عدالت کے سامنے اٹھائے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ریاست سے وفاداری کے حلف اور احتجاج سے متعلق بیانات پر بھی سوالات کیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو ریاست سے زیادہ مخلص ہونا چاہیے، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ نے آئین یا ریاست کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔

عدالت میں بعض مواقع پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور چیف جسٹس کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ بعد ازاں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرلز نے بھی اپنے دلائل پیش کیے۔

سماعت کے اختتام پر عدالت نے قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کے علاوہ دیگر افسران کو پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

More News