اراکین اسمبلی کی مراعات سے متعلق قانون پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج
پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کی مراعات اور اختیارات سے متعلق منظور کیے گئے خیبرپختونخوا اسمبلی پاور، امیونٹی اینڈ پریولیجز ایکٹ 2026 کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
درخواست سابق رکن صوبائی اسمبلی زاہد درانی کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی نے اراکین کو مراعات دینے کے لیے غیر آئینی قانون سازی کی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نئے قانون کے تحت اراکین اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کو سرکاری پاسپورٹ، گرفتاری سے استثنیٰ، اے اور بی کیٹیگری سکیورٹی، ٹول ٹیکس سے استثنیٰ اور سرکاری افسران کو طلب کرنے جیسے اختیارات دیے گئے ہیں، جو آئینی حدود سے تجاوز ہیں۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ سرکاری پاسپورٹ جاری کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے، جبکہ سرکاری افسران کو طلب کرنے کا اختیار بھی انتظامی شعبے سے متعلق ہے، اس لیے صوبائی اسمبلی ان اختیارات کی قانون سازی نہیں کر سکتی۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی پاور، امیونٹی اینڈ پریولیجز ایکٹ 2026 کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے، کیونکہ یہ قانون عوامی مفاد کے بجائے اختیارات سے تجاوز پر مبنی ہے۔







