اسحاق ڈار اور انتونیو گوتریس کی اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں عالمی اور علاقائی صورتحال، امن و سلامتی، سفارتی کوششوں اور خطے میں جاری تنازعات پر گفتگو کی گئی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس 6 سے 8 اکتوبر تک پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں طے ہیں۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان کے سفارتی کردار اور خطے میں امن کے لیے جاری کوششوں پر بھی بات کی گئی۔ حالیہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے مختلف فریقین کے درمیان بات چیت اور سفارتی رابطوں کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی زیر بحث آئیں۔
انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور سفارت کاری کی جانب واپسی پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور رابطوں میں سہولت کاری کی کوششوں کو بھی سراہا۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق تنازعات کا حل بات چیت اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے۔
اس موقع پر پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون، کثیرالجہتی نظام، عالمی امن و سلامتی اور علاقائی استحکام سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق گوتریس کے دورے کا مقصد عالمی اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ امن، سلامتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو اجاگر کرنا ہے۔
انتونیو گوتریس اپنے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان (UNMOGIP) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کریں گے، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میں پاکستان کی آفات سے نمٹنے اور ابتدائی انتباہ کے نظام سے متعلق بریفنگ بھی لیں گے۔
اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں اور مشترکہ پریس کانفرنس کو پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی اور علاقائی تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی رابطوں پر بھی زور دیا گیا ہے۔








