اسلام آباد میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث مزید 275 غیرملکی گرفتار
اسلام آباد میں غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کے دوران مزید 275 غیرملکی باشندوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے سیکٹر آئی ٹین تھری میں ایک غیرقانونی کال سینٹر کے خلاف آپریشن کیا۔
ایف آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے تمام غیرملکی باشندے ایک کال سینٹر میں کام کررہے تھے۔ حکام کے مطابق یہ افراد سیاحتی اور بزنس ویزوں پر پاکستان آئے تھے، تاہم یہاں مبینہ طور پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ مذکورہ کال سینٹر انتظامیہ مبینہ طور پر غیر اخلاقی مواد کی تیاری میں ملوث تھی۔ اس مقصد کے لیے غیرملکی خواتین اور مردوں کو بھی بھرتی کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے نے کارروائی کے بعد گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔ ایف آئی اے میں گرفتار ملزمان کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں، جبکہ این سی سی آئی اے کی جانب سے متعلقہ افراد کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار کیے گئے 275 غیرملکیوں میں سے 76 افراد کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان افراد کی ملک بدری کے لیے ایگزٹ پرمٹ تیار کرنے کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ویزا قوانین اور امیگریشن ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ متعلقہ ادارے اس بات کی بھی تحقیقات کررہے ہیں کہ گرفتار افراد پاکستان میں کس مقصد کے تحت داخل ہوئے اور ان کی سرگرمیاں ویزے کی شرائط کے مطابق تھیں یا نہیں۔
سیکٹر آئی ٹین تھری میں ہونے والی کارروائی کو غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔ تفتیشی ادارے کال سینٹر کے انتظامی معاملات، مالی لین دین، ملازمین کی بھرتی اور مبینہ غیرقانونی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کررہے ہیں۔
حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر مزید افراد یا ادارے غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
واقعے کے بعد اسلام آباد میں غیرملکی شہریوں کی جانب سے ویزا قوانین کی پابندی اور کاروباری سرگرمیوں کی قانونی حیثیت سے متعلق نگرانی مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔





