بیمار قیدی کا علاج ہر قیدی کا حق ہے، معاملہ عدالت تک نہیں جانا چاہیے تھا: بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کسی بھی بیمار قیدی کو علاج کی مناسب سہولت فراہم کرنا اس کا بنیادی حق ہے اور یہ معاملہ سپریم کورٹ تک نہیں جانا چاہیے تھا۔ حکومت کو خود ہی بیمار قیدی کے علاج کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ اگر کوئی قیدی بیمار ہے تو اسے علاج اور ضروری طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ ان کے مطابق بیماری کی صورت میں مناسب علاج ہر قیدی کا حق ہے، چاہے وہ کسی بھی مقدمے میں قید ہو۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومتی وزرا کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہتے دیکھا ہے، تاہم ان کے خیال میں حکومت کو یہ معاملہ عدالت عظمیٰ تک پہنچنے سے پہلے ہی حل کرلینا چاہیے تھا۔
بلاول بھٹو نے پارلیمان کو درپیش چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری اداروں کو مختلف خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، اس لیے پارلیمان کا تحفظ اور اس کے کردار کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی توجہ ان ہاؤس تبدیلی پر نہیں ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کشمیر کے انتخابات ایک حساس معاملہ ہیں اور جتنے غیر متنازع انتخابات ہوں، اتنا ہی بہتر ہوتا ہے، تاہم موجودہ انتخابات اس کے برعکس زیادہ متنازع بن گئے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ آزاد کشمیر کے صدر کی جانب سے پیپلز پارٹی کو نشانہ بنایا گیا جبکہ وفاقی وزرا بھی بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے۔ بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں کو گولیاں لگیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات مکمل ہونے سے پہلے ہی ان کی شفافیت اور نتائج پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں اتفاق رائے نہیں ہوگا وہاں نئے صوبے نہیں بنیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ کا اس معاملے پر مؤقف بالکل واضح ہے اور زور زبردستی سے کیا جانے والا فیصلہ نہ پہلے تسلیم کیا گیا تھا اور نہ آئندہ کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو علاج کے لیے اسلام آباد کے نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے عمران خان کے طبی معائنے کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی کی درخواست بھی دائر کردی ہے، جس میں عدالتی حکم کو اختیارِ سماعت سے تجاوز قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کی استدعا کی گئی ہے۔





