افغانستان سے دہشتگرد حملے ناقابل برداشت، پاکستان کا سخت مؤقف
اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان سے ہونے والے دہشتگرد حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں مزید برداشت نہیں کی جا سکتیں۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ سرحد پار دہشتگردی کے تسلسل نے پاکستان کے صبر کا امتحان لیا ہے اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار رہا ہے اور اس جنگ میں ہزاروں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کو ایسی دہشتگردی کا سامنا ہے جس کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور سرپرستی سرحد پار سے کی جاتی ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے جان و مال کو نشانہ بنانے والے حملوں پر خاموش نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کے مسلسل واقعات نے صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے اور پاکستان اب اپنے شہریوں اور ریاستی اداروں پر حملے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے اپنی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں اور افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی ضمانت دیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بارہا اس مؤقف کا اظہار کر چکا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے دہشتگردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
اس موقع پر طاہر اندرابی نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے عوام مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور لسانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، اسی لیے پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور مثبت روابط کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مسائل کے حل کے لیے طاقت کے بجائے مکالمے اور سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
بھارت سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان انسانی حقوق کے معاملات پر یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اقلیتوں کے تحفظ اور بنیادی حقوق کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے عالمی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔
طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان عالمی برادری کو اس مسئلے سے آگاہ کرنے اور کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ایک طرف دہشتگردی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب خطے میں امن، استحکام اور سفارتی روابط کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات اور تعاون کی پالیسی پر بھی قائم ہے۔








