افغان سرحدی راستوں سے ہمسایہ ممالک میں منشیات سمگلنگ، تاجک ایجنسی کی رپورٹ جاری
کابل: افغان طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان سے منسلک سرحدی علاقوں میں منشیات کی سمگلنگ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ تاجکستان کے انسدادِ منشیات ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے ملحقہ سرحدی راستے بدستور منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ بین الاقوامی امن کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تاجک سکیورٹی فورسز نے رواں سال سرحدی علاقوں میں منشیات سمگلنگ کے خلاف متعدد کارروائیاں کیں، جن کے دوران 17 افغان سمگلرز ہلاک جبکہ 18 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار کیے گئے ملزمان کے قبضے سے 601 کلوگرام سے زائد مختلف اقسام کی منشیات برآمد کی گئیں، جنہیں تاجک حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق تاجک انسدادِ منشیات ایجنسی کا کہنا ہے کہ سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران افغان سرحد پر مجموعی طور پر ایک ٹن 513 کلوگرام منشیات ضبط کی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان کے اندر اب بھی منشیات اور مصنوعی نشہ آور اشیا تیار کرنے والی متعدد لیبارٹریاں سرگرم عمل ہیں، جن سے تیار ہونے والی منشیات مختلف سرحدی راستوں کے ذریعے وسطی ایشیا اور دیگر ممالک تک پہنچائی جاتی ہیں۔
رپورٹ میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں، جن کے مطابق 2025 کے دوران افغان سرحد پر 2 ہزار 742 کلوگرام منشیات ضبط کی گئی تھیں، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ تھیں۔ تاجک حکام کے مطابق یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرحدی نگرانی سخت ہونے کے باوجود منشیات سمگلنگ کے نیٹ ورکس اب بھی متحرک ہیں۔
رپورٹ میں عالمی ماہرین کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی مختلف غیر قانونی سرگرمیوں اور جدید ہتھیاروں کی خریداری میں استعمال ہونے کے خدشات موجود ہیں، جس سے سرحدی ممالک کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
تاجک حکام نے علاقائی اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون اور انسدادِ منشیات اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ منشیات کی غیر قانونی ترسیل کی روک تھام کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و استحکام کو بھی یقینی بنایا جا سکے








