بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شعبان شروع، مشترکہ کارروائیاں جاری
اسلام آباد: پاکستان نے بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شعبان کا آغاز کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن میں پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی)، بلوچستان پولیس اور فضائی معاونت کے ذریعے مشترکہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
حکام کے مطابق آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کے نیٹ ورکس، محفوظ ٹھکانوں اور عسکری انفراسٹرکچر کا خاتمہ کرتے ہوئے صوبے میں ریاستی عملداری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آپریشن کا آغاز 7 جولائی کو منگی ڈیم کے علاقے میں پولیس پر ہونے والے حملے کے بعد کیا گیا، جس میں 27 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے آغاز سے اب تک مختلف کارروائیوں میں تقریباً 123 عسکریت پسند ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ متعدد مشتبہ ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق شمالی بلوچستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ جنوبی بلوچستان میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر علیحدگی پسند گروہوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور بلوچستان میں امن و امان کی بحالی تک آپریشن جاری رہے گا۔








