اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا صدارتی بیان منظور، جنگ کے دوران بھی سفارت کاری جاری رکھنے پر زور

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا صدارتی بیان منظور، جنگ کے دوران بھی سفارت کاری جاری رکھنے پر زور

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ صدارتی بیان منظور کرلیا، جس میں مسلح تنازعات کے دوران بھی سفارتی روابط برقرار رکھنے، جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے اور دیرپا سیاسی حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

’’فعال جنگی حالات میں سفارت کاری کا کردار‘‘ کے عنوان سے منظور ہونے والے بیان میں تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سفارت کاری کا سلسلہ ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے حالات میں مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ثالثی، دوستانہ مساعی اور براہِ راست یا بالواسطہ رابطوں کے ذریعے جنگ میں مصروف فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں۔

سلامتی کونسل کے مطابق جنگ کے دوران سفارتی کوششیں شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی محفوظ فراہمی، تشدد میں کمی اور تنازعات کو علاقائی یا عالمی سطح پر پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر سید حیدر شاہ نے صدارتی بیان کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تنازعات کے پُرامن حل کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمنی اور جنگ شروع ہونے کے بعد سفارت کاری ختم نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسی وقت اس کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔

یہ سفارتی کوشش سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کی بنیاد پر آگے بڑھائی گئی، جسے جولائی 2025 میں پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔

صدارتی بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی سیاسی اور سفارتی روابط جاری رکھے جائیں تاکہ تنازعات کا مستقل اور دیرپا حل ممکن بنایا جاسکے۔

More News