رات کے وقت بھی سورج کی روشنی ممکن بنانے کا منصوبہ، امریکی کمپنی خلا میں بڑے آئینے نصب کرے گی

رات کے وقت بھی سورج کی روشنی ممکن بنانے کا منصوبہ، امریکی کمپنی خلا میں بڑے آئینے نصب کرے گی

توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر امریکی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی ریفلیکٹ آربیٹل نے ایک غیر معمولی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت خلا میں بڑے آئینے نصب کرکے سورج غروب ہونے کے بعد بھی زمین کے مخصوص علاقوں کو روشنی فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

کیلیفورنیا میں قائم کمپنی کے منصوبے کے مطابق زمین کے نچلے مدار میں بڑے عکاس آئینے بھیجے جائیں گے، جو سورج کی روشنی منعکس کرکے رات کے وقت منتخب مقامات تک پہنچائیں گے۔ اس مقصد کے لیے کمپنی نے راکٹ تیار کرنے والی فرم اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے ساتھ دو راکٹ لانچ کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔

منصوبے کے تحت تقریباً 18 بائی 18 میٹر کے آئینے خلا میں نصب کیے جائیں گے، جن کی پوزیشن تبدیل کرکے روشنی کو زمین کے مطلوبہ مقامات کی جانب منتقل کیا جاسکے گا۔ ابتدائی تجربے میں تقریباً پانچ کلومیٹر چوڑے علاقے کو روشن کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے شمسی توانائی کے منصوبوں کو سورج غروب ہونے کے بعد بھی بجلی پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے دوران روشنی فراہم کرنے کے لیے بھی اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ریفلیکٹ آربیٹل کا ہدف 2035 تک خلا میں 50 ہزار سیٹلائٹس پر مشتمل نیٹ ورک قائم کرنا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں ان سے منعکس ہونے والی روشنی چاندنی کے برابر ہوگی، تاہم سیٹلائٹس کی تعداد بڑھنے سے روشنی کی شدت اور دورانیے میں اضافہ ممکن ہوگا۔

دوسری جانب منصوبے کے ماحولیاتی اثرات اور رات کے قدرتی اندھیرے پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے ماہرینِ فلکیات اور ماحولیاتی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق خلا میں بڑی تعداد میں عکاس سیٹلائٹس کی موجودگی فلکیاتی مشاہدات اور قدرتی ماحول کو متاثر کرسکتی ہے۔

More News