امریکا نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو بتدریج ختم کرنے کیلئے اقدامات کا اعلان کردیا

امریکا کا انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے کے اقدامات کا اعلان

واشنگٹن: امریکی حکومت نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا ایسے کسی بین الاقوامی ادارے کو قبول نہیں کرے گا جو امریکی خودمختاری، آئینی نظام یا اس کے اتحادی ممالک کے خلاف سیاسی بنیادوں پر کارروائیاں کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر آئی سی سی کے کردار کو محدود کرنے اور بالآخر اس کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے گی۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ جارح حکومتیں یا غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) امریکی آئین، عدالتی نظام اور قومی خودمختاری پر اثرانداز ہوں۔ ان کے مطابق امریکی انتظامیہ بین الاقوامی سطح پر ایسے اقدامات کی حمایت کرے گی جو امریکی مفادات اور اتحادی ممالک کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ بین الاقوامی ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں اور کسی بھی ریاست کے داخلی معاملات یا خودمختاری میں مداخلت نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ادارہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے تو امریکا اس کی حمایت نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے گزشتہ عرصے میں اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جس کے بعد امریکا نے آئی سی سی پر شدید تنقید کی تھی۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ عدالت نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور ایسے فیصلے کیے جو سیاسی نوعیت کے تھے۔

امریکی حکومت کے اس تازہ اعلان کو بین الاقوامی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکا اپنے اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے آئی سی سی کے مستقبل اور عالمی احتساب کے نظام پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ اس معاملے پر مختلف ممالک اور عالمی تنظیموں کی جانب سے ردعمل بھی متوقع ہے۔

More News