انمول پنکی کے تمام مقدمات عدالت میں ایک ساتھ پیش کر کے پولیس نے ریمانڈ کے راستے بند کر دیے

انمول پنکی کیس پولیس کی حکمت عملی پر سنگین سوالات

کراچی میں منشیات فروش انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمات نے ایک بار پھر سندھ پولیس کی تفتیشی حکمت عملی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انمول پنکی، جس کا نام مبینہ طور پر منشیات کے بڑے نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے، عدالت میں پیشی کے بعد اس وقت مزید خبروں کی زینت بن گئی جب پولیس نے اس کے خلاف تمام مقدمات ایک ساتھ عدالت میں پیش کر دیے۔ قانونی ماہرین اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کے امکانات تقریباً ختم ہو گئے، جس سے تفتیش متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق انمول پنکی نے اپنی ایک وائرل آڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ ’’آپ لوگ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، کئی آئے کئی گئے۔‘‘ حیران کن طور پر حالیہ پیش رفت نے اس دعوے کو تقویت دی ہے۔ پولیس نے مختلف تھانوں میں درج مقدمات کو الگ الگ چلانے کے بجائے ایک ہی وقت میں عدالت کے سامنے پیش کیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر ہر مقدمہ علیحدہ طور پر پیش کیا جاتا تو پولیس ہر کیس میں الگ جسمانی ریمانڈ حاصل کر سکتی تھی، جس سے مزید تفتیش کے مواقع پیدا ہوتے۔

عدالت میں پیشی کے دوران پولیس نے صرف ایک مرتبہ جسمانی ریمانڈ لیا۔ بعد ازاں جب دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا تو جوڈیشل مجسٹریٹ نے مزید ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزمہ کو جیل بھیج دیا۔ عدالت نے سندھ پولیس کی تفتیش کو ناکافی قرار دیا، جس کے بعد پولیس کی سنجیدگی اور نیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

قانونی ماہر قیصر امام کا کہنا ہے کہ پولیس کے پاس بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے میں بھی انمول پنکی کا الگ ریمانڈ لینے کا اختیار موجود تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر پولیس واقعی بڑے ڈرگ نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا چاہتی تو مختلف مقدمات میں الگ الگ تفتیش کر کے مزید معلومات حاصل کی جا سکتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمت عملی نے ملزمہ کو ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

یہ معاملہ صرف ایک ملزمہ تک محدود نہیں بلکہ اس سے پولیس کے پورے نظامِ تفتیش پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔ عوامی حلقے یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آیا پولیس واقعی منشیات کے بڑے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی میں سنجیدہ ہے یا پھر یہ صرف رسمی کارروائیاں ہیں۔ اگر تفتیش مؤثر انداز میں نہ کی گئی تو نہ صرف اصل کردار قانون کی گرفت سے بچ سکتے ہیں بلکہ عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بھی مزید کمزور ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس کیس پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے مقدمات ایک ساتھ پیش کرنا غیر معمولی اقدام ہے، جس سے شبہات پیدا ہونا فطری بات ہے۔ بعض افراد نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر اتنے سنگین الزامات موجود تھے تو پھر تفتیش کے لیے مکمل قانونی راستہ کیوں اختیار نہیں کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق ایسے حساس مقدمات میں شفاف اور مؤثر تفتیش نہایت ضروری ہوتی ہے تاکہ نہ صرف اصل مجرموں تک پہنچا جا سکے بلکہ عوام کو بھی انصاف کے نظام پر اعتماد حاصل ہو۔ انمول پنکی کیس اس وقت سندھ پولیس کے لیے ایک اہم امتحان بن چکا ہے، جہاں ہر قدم پر ادارے کی کارکردگی کو باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے۔

More News