عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی
عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹس میں دو روز کے اضافے کے بعد ایک مرتبہ پھر سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں، صرافہ تاجروں اور عام خریداروں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ معاشی صورتحال، عالمی مالیاتی پالیسیوں، امریکی ڈالر کی قدر اور سرمایہ کاری کے رجحانات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ تازہ کمی کو بھی عالمی مارکیٹ میں سونے کی طلب میں کمی اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات سے جوڑا جا رہا ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملکی سطح پر 24 کیرٹ فی تولہ سونے کی قیمت میں 2200 روپے کی نمایاں کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 73 ہزار 162 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 1886 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 5 ہزار 660 روپے مقرر ہوئی۔ سونے کی قیمتوں میں یہ کمی حالیہ دنوں کے اضافے کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے مارکیٹ میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 22 ڈالر کم ہو کر 4508 ڈالر پر آ گئی۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی مضبوطی اور بعض سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کے متبادل ذرائع کی طرف رجحان اس کمی کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سونے کی قیمتیں صرف عالمی مارکیٹ سے ہی متاثر نہیں ہوتیں بلکہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر، درآمدی ٹیکسز، مقامی طلب اور معاشی غیر یقینی صورتحال بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب عالمی مارکیٹ میں سونا سستا ہوتا ہے تو اس کا اثر مقامی سطح پر بھی نظر آتا ہے، تاہم پاکستان میں اضافی ٹیکسز اور درآمدی اخراجات کے باعث قیمتوں میں فرق برقرار رہتا ہے۔
صرافہ بازار سے وابستہ تاجروں کے مطابق حالیہ کمی کے باوجود سونا اب بھی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب موجود ہے، جس کے باعث عام شہریوں کی قوت خرید شدید متاثر ہو رہی ہے۔ شادی بیاہ کے سیزن میں سونے کی خریداری پاکستان میں ایک اہم روایت سمجھی جاتی ہے، لیکن مسلسل بلند قیمتوں نے متوسط طبقے کے لیے زیورات خریدنا مشکل بنا دیا ہے۔ بعض دکانداروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے بعد خریداروں کی دلچسپی میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم مارکیٹ ابھی بھی مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکی۔
دوسری طرف چاندی کی قیمت میں کوئی تبدیلی ریکارڈ نہیں کی گئی۔ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت بدستور 8034 روپے پر برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق چاندی کی قیمتوں میں استحکام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی توجہ فی الحال زیادہ تر سونے کی مارکیٹ پر مرکوز ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر معاشی دباؤ، امریکی شرح سود اور جغرافیائی سیاسی صورتحال میں تبدیلی آتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے۔ سرمایہ کار اس وقت عالمی معاشی اشاریوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ سونا ہمیشہ سے غیر یقینی حالات میں محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ کمی نے وقتی طور پر خریداروں کو کچھ ریلیف ضرور دیا ہے، لیکن مارکیٹ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں قیمتوں کا رجحان عالمی معاشی صورتحال پر منحصر رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار اور خریدار دونوں احتیاط سے مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔








