اوگرا نے آر ایل این جی 32 فیصد مہنگی کر دی، قیمتیں ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اگست کے لیے ری گیسفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد قیمتیں گزشتہ 10 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے لیے آر ایل این جی کی قیمت 25.83 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے، جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے یہ قیمت 25.09 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق قطر سے ایل این جی کارگو کی بروقت فراہمی میں رکاوٹ اور اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگے داموں پانچ کارگو کی خریداری قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق فروری میں آر ایل این جی کی قیمت 10.45 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی، جو اگست میں بڑھ کر 25.83 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی، یوں صرف چند ماہ میں قیمت میں تقریباً 148 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اوگرا نے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں بھی 5.4 فیصد اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت 254.32 روپے فی کلوگرام مقرر کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق آر ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، جبکہ ٹیکسٹائل، کھاد، سیمنٹ اور دیگر صنعتی شعبوں کو بھی اضافی مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے میں کمی کے لیے تقریباً 50 ارب روپے مختص کیے ہیں، تاہم فوری طور پر صارفین کو کسی بڑے ریلیف کی توقع نہیں ہے۔
توانائی کے ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ درآمدی گیس پر انحصار کم کرنے، مقامی وسائل کو فروغ دینے اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو وسعت دینے کے لیے مؤثر اقدامات کرے








