اٹھارویں ترمیم کے بینیفشری وفاق اور چاروں صوبے تھے، رانا ثناء اللہ

اٹھارویں ترمیم کے بینیفشری وفاق اور چاروں صوبے تھے، رانا ثناء اللہ

اسلام آباد:ویب ڈیسک

وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے اصل بینیفشری وفاق اور چاروں صوبے ہیں، کیونکہ اس کے تحت صوبوں کو نہ صرف وسائل ملے بلکہ انہیں اپنے اختیارات بھی بہتر انداز میں استعمال کرنے چاہئیں۔

یہ بات انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سیاسی بیانات انتخابی ماحول کا حصہ ہوتے ہیں اور مختلف رہنما اپنی جماعتی پوزیشن کے مطابق رائے دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو زیادہ مالی و انتظامی اختیارات حاصل ہوئے ہیں، جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) ایک سماجی بہبود کا پروگرام ہے جسے صوبے بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں۔

رانا ثناء اللہ کے مطابق پیپلزپارٹی کی جانب سے بی آئی ایس پی کو صوبوں کو منتقل کرنے کی مخالفت موجود ہے، تاہم حکومت اپنی تجاویز پر بات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کوئی ضد نہیں کہ این ایف سی ایوارڈ میں ریشو کو تبدیل کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد سماجی بہبود کی اسکیموں کی بہتر مینجمنٹ صوبائی سطح پر ممکن ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں بی آئی ایس پی کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا۔

رانا ثناء اللہ نے یہ بھی کہا کہ دفاع اور حکومتی اخراجات اکثر ادھار پر چلتے ہیں، اس لیے وسائل کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کی جانب سے بی آئی ایس پی کو صوبوں کو منتقل کرنے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

More News