اٹھارہ سال سے کم عمر شادی کو جرم قرار دینے والا قانون فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج

اٹھارہ سال سے کم عمر شادی کو جرم قرار دینے والا قانون فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد: پنجاب میں 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی کو جرم قرار دینے والے پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 کو فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ آرڈیننس کی بعض دفعات اسلامی شریعت اور آئین پاکستان سے متصادم ہیں، اس لیے انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست مفتی محمد اسلم کی جانب سے اپنے وکیل کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں گورنر پنجاب کو بذریعہ سیکرٹری سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آرڈیننس کی شق 2-ڈی، شق 3 اور دیگر متعلقہ دفعات اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

درخواست گزار نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ 18 سال سے کم عمر میں شادی کو قابلِ سزا جرم قرار دینا شریعت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق ریاست کو انتظامی معاملات، نظم و ضبط اور عوامی مفاد کے لیے قانون سازی کا اختیار ضرور حاصل ہے، تاہم ایسے معاملات میں قانون سازی نہیں کی جا سکتی جو براہِ راست اسلامی شریعت سے متعلق ہوں۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 کی بعض دفعات بنیادی آئینی اور مذہبی اصولوں سے متصادم ہیں، اس لیے فیڈرل شریعت کورٹ ان کا جائزہ لے اور انہیں غیر مؤثر قرار دے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ آرڈیننس کی شق 2-سی، شق 2-ڈی اور دیگر متعلقہ دفعات کو کالعدم قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک مذکورہ آرڈیننس پر عمل درآمد عارضی طور پر روکنے کا حکم جاری کیا جائے۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام، بچوں کے حقوق کے تحفظ اور قانونی عمر سے پہلے شادی کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے یہ آرڈیننس نافذ کیا تھا۔ اب اس قانون کی آئینی اور شرعی حیثیت کا فیصلہ فیڈرل شریعت کورٹ کرے گی، جہاں درخواست پر سماعت کے بعد آئندہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

More News