انگور اڈا بارڈر پر بیمار افغان خاتون کو طبی امداد اور محفوظ واپسی، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا انسانی ہمدردی کا اقدام
جنوبی وزیرستان: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے دوران جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈا میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایک بیمار افغان خاتون کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد محفوظ طریقے سے ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق سرحدی کشیدگی کے دوران ایک بیمار افغان خاتون انتہائی تشویشناک حالت میں پاکستانی سرحد کے قریب پہنچ گئیں۔ خاتون کی حالت کے بارے میں اطلاع ملنے پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں اپنی تحویل میں لیا اور انسانی بنیادوں پر ضروری طبی امداد فراہم کی۔
ذرائع کے مطابق خاتون کو ابتدائی طبی علاج، خوراک، آرام اور مکمل تحفظ فراہم کیا گیا تاکہ ان کی صحت بہتر بنائی جا سکے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے اس دوران خاتون کی حفاظت کو یقینی بنایا اور انہیں ہر ممکن سہولت مہیا کی۔
بعد ازاں پاکستانی سیکیورٹی فورسز، سرحدی حکام اور مقامی قبائلی عمائدین کی موجودگی میں خاتون کو انگور اڈا بارڈر گیٹ کے ذریعے باعزت انداز میں ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔ روانگی کے موقع پر انہیں مالی معاونت اور تحائف بھی دیے گئے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام انسانی ہمدردی، اسلامی روایات اور قبائلی اقدار کے تحت کیا گیا، جن کے مطابق ضرورت مند افراد کی مدد کو اولین ترجیح دی جاتی ہے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی ملک یا قوم سے ہو۔
بیان میں افغان حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ سرحدی کشیدگی کے دوران خاتون کو انتہائی خطرناک حالات میں سرحد کی جانب بھیجا گیا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں پیش آنے والے ایسے واقعات میں انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور ضرورت مند افراد کو انسانی بنیادوں پر ہر ممکن امداد فراہم کی جاتی ہے۔







