امریکا اور خلیج تعاون کونسل کے مشترکہ اعلامیے پر ایران کا ردعمل، خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار امریکا قرار
تہران: ایران نے امریکا اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کی بنیادی وجہ امریکا کی فوجی موجودگی اور اس کی پالیسیاں ہیں، جبکہ پائیدار امن صرف علاقائی ممالک کے باہمی تعاون اور مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مشترکہ اعلامیے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اعلامیے میں شامل بعض بیانات حقائق کے منافی اور اشتعال انگیز نوعیت کے ہیں، جو خطے میں اعتماد سازی کے بجائے مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی مسائل کا حل بیرونی مداخلت میں نہیں بلکہ خطے کے ممالک کے درمیان براہ راست تعاون اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔
ترجمان نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ایسے اقدام کے لیے استعمال نہ ہونے دیں جو ایران کی سلامتی یا خودمختاری کے خلاف ہو۔ ان کے مطابق تمام ہمسایہ ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور اعتماد کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی مؤقف دہراتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کا انتظام عمان کے ساتھ طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے مطابق جاری رہے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کی فضا پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بحرین میں امریکا اور خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں غزہ کی صورتحال، لبنان اور خطے کی مجموعی سکیورٹی پر زور دیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ غزہ سے کسی بھی فرد کو زبردستی بے دخل نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ اپنی مرضی سے جانے والوں کو واپسی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
اعلامیے میں لبنان میں ریاست کے علاوہ تمام مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ لبنان سے متعلق سیاسی اور سکیورٹی مذاکرات کو دیگر علاقائی تنازعات سے مشروط نہ کیا جائے، تاکہ ملک میں استحکام اور امن کو فروغ دیا جا سکے۔
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے کو مزید تنازعات سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق تحمل، ذمہ داری اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔ ترجمان نے اس امید کا اظہار کیا کہ علاقائی ممالک مستقبل میں ایسے اقدامات کریں گے جو امن، باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کے لیے معاون ثابت ہوں








