ایرانی وزیر خارجہ کے پاکستان سمیت 6 ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے

ایرانی وزیر خارجہ کے پاکستان سمیت 6 ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ فوجی صورتحال کے تناظر میں پاکستان سمیت 6 اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ان رابطوں کا مقصد حالیہ پیش رفت سے متعلق دوست اور اہم ممالک کو آگاہ کرنا اور ایران کے مؤقف سے انہیں اعتماد میں لینا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی نے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر اور فرانس کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی۔ ان رابطوں کے دوران خطے کی سکیورٹی صورتحال، حالیہ فوجی کشیدگی اور ایران کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ہم منصبوں کو بتایا کہ ایران نے حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں جو کارروائیاں کیں، وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کے حق کے استعمال کے زمرے میں آتی ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ ملکی سلامتی اور دفاعی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو خطے میں امن و استحکام کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا اور موجودہ کشیدہ صورتحال کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنازع کے پرامن حل کی جانب پیش رفت کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ شب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا جب دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے فوجی اہداف پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے جواب میں بحری میزائلوں کے ذریعے ایک امریکی اور اسرائیلی جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم حالیہ واقعات نے خطے میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے فوری رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران موجودہ صورتحال میں سفارتی محاذ کو بھی متحرک رکھنا چاہتا ہے تاکہ اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔

More News