ایران امریکا کشیدگی، خام تیل کی قیمتیں 3 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں گزشتہ تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں 4.05 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔
دوسری جانب امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ WTI کی قیمت میں 4.66 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت 100.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ میں اضافے سے عالمی سرمایہ کاروں میں خطے سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
خام تیل عالمی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس کی قیمتوں میں اچانک اضافے کا اثر پٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹ، صنعت اور دیگر شعبوں پر پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر تیل درآمد کرنے والے ممالک میں عالمی قیمتوں میں اضافہ مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
برینٹ اور WTI دونوں کی قیمتوں میں ایک ہی روز نمایاں اضافے کے بعد عالمی منڈی میں سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کی صورت میں تیل کی عالمی سپلائی اور قیمتوں پر اضافی دباؤ آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں کا رجحان ایران اور امریکا کے درمیان صورتحال، خطے میں سکیورٹی حالات اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی سے متعلق پیش رفت پر منحصر ہوگا۔








