ایران امریکا کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

ایران امریکا کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جاری جوابی کارروائیوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں اور خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.68 ڈالر، یعنی تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 84.98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 1.65 ڈالر، یعنی 2.1 فیصد اضافے کے ساتھ 79.79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز بھی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی تھی، جب برینٹ خام تیل کی قیمت میں 9.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی یا تیل کی ترسیل کے اہم راستوں پر خطرات پیدا ہوئے تو عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ دنیا کو خام تیل فراہم کرنے والا اہم خطہ ہے، اس لیے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی توانائی کی فراہمی اور قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ سرمایہ کار بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی نئی پیش رفت کی صورت میں مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے دنیا بھر میں ایندھن، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جبکہ درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کو بھی اضافی مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی منڈی کی آئندہ سمت کا انحصار ایران اور امریکا کے درمیان پیدا ہونے والی صورتحال اور خطے میں سکیورٹی حالات پر ہوگا۔

More News