پاکستان کے آئی ٹی شعبے نے برآمدات میں نئی تاریخ رقم کر دی، مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 4.5 ارب ڈالر کی آمدن
اسلام آباد: پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شعبے نے مالی سال 2025-26 کے دوران برآمدات میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے ریکارڈ 4.5 ارب ڈالر کی برآمدی آمدن حاصل کر لی ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کے 3.475 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 29 فیصد زیادہ ہے، جسے ملکی آئی ٹی صنعت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آئی ٹی برآمدات میں یہ نمایاں اضافہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ (BPO)، سافٹ ویئر بطور سروس (SaaS) اور گیمنگ انڈسٹری میں تیز رفتار ترقی کے باعث ممکن ہوا۔ پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے عالمی سطح پر اپنی خدمات کے معیار کو بہتر بناتے ہوئے نئی منڈیوں میں مؤثر انداز میں رسائی حاصل کی، جس سے برآمدی آمدن میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ماہرین کے مطابق جاپان، سنگاپور اور ایشیا پیسیفک خطے کے دیگر ممالک میں پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے برآمدات میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے آئی ٹی اداروں نے بھی نئی عالمی منڈیوں میں اپنی خدمات متعارف کرا کر ملکی برآمدات کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل سروسز کی بڑھتی ہوئی طلب، ریموٹ ورک کلچر، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور جدید سافٹ ویئر سلوشنز کی ضرورت نے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی آئی ٹی سیکٹر مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ مضبوط بنا رہا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے سازگار پالیسیوں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ہنرمند افرادی قوت کی تربیت اور سرمایہ کاری کے فروغ کا سلسلہ جاری رہا تو آئندہ برسوں میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مزید تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔ آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز میں حالیہ پیش رفت نہ صرف عالمی مارکیٹ میں پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے بلکہ یہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے بھی انتہائی اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔








