ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا

ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں سیشن بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، برینٹ 93.82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے نئی اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی توجہ ایران کی تیل کی برآمدات، خطے کی صورتحال اور عالمی سپلائی پر ممکنہ اثرات پر مرکوز ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.20 ڈالر یعنی 2.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد برینٹ کی قیمت 93.82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 2.33 ڈالر اضافے کے بعد 88.16 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

رپورٹس کے مطابق دونوں اہم عالمی آئل بینچ مارکس کی قیمتیں 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں کاروباری سیشن میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان مزید مضبوط ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیوں سے خطے میں تیل کی سپلائی اور تجارت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔ ایران عالمی تیل مارکیٹ میں ایک اہم پیداواری ملک ہے، اس لیے اس کی برآمدات پر کسی بھی قسم کی پابندی یا رکاوٹ عالمی قیمتوں پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

امریکی پابندیوں کے اعلان کے بعد سرمایہ کار ممکنہ سپلائی خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی تیل کی عالمی مارکیٹ تک رسائی متاثر ہوتی ہے تو سپلائی میں کمی کے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں، جس سے قیمتوں میں اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ان ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں پٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کی لاگت میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ آنے والے دنوں میں بھی اہم پیش رفت اور ممکنہ پابندیوں کے اثرات پر نظر رکھے گی۔

More News