ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ریٹرنز کی الیکٹرانک جانچ پڑتال کا نظام متعارف کرا دیا

ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ریٹرنز کی الیکٹرانک جانچ پڑتال کا نظام متعارف کرا دیا

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس ریٹرنز کی الیکٹرانک اور خودکار جانچ پڑتال کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت رجسٹرڈ افراد کے ریٹرنز اور دستیاب دیگر ڈیٹا کی کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے جانچ، تجزیہ اور کراس میچنگ کی جائے گی۔

ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں مزید ترامیم کرتے ہوئے نئے طریقہ کار کو وضع کیا ہے۔ نظام کے ذریعے سامنے آنے والی قانونی غلطیوں، تضادات یا دیگر مسائل کی نشاندہی رجسٹرڈ افراد کو آئی آر آئی ایس کے ذریعے آن لائن ایڈوائس یا پیشگی اطلاع کی صورت میں کی جائے گی۔

ترمیمی قواعد کے مطابق پیشگی اطلاع میں جواب جمع کرانے کے لیے مقررہ مدت واضح کی جائے گی، جو 7 دن سے کم نہیں ہوگی۔ مقررہ مدت میں جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں رجسٹرڈ شخص کو کم از کم مزید 7 دن کی مہلت کے ساتھ یاددہانی بھیجی جائے گی۔

ایف بی آر کے مطابق کمپیوٹرائزڈ نظام سے سامنے آنے والے مسائل، رجسٹرڈ افراد کو بھیجی گئی اطلاعات، موصول ہونے والے جوابات اور ان پر کیے گئے اقدامات کا ریکارڈ محفوظ کیا جائے گا۔ یہ تمام معلومات متعلقہ دائرہ اختیار رکھنے والے افسر ان لینڈ ریونیو کے ساتھ بھی شیئر کی جائیں گی۔

نئے نظام کے تحت اطلاعات، جوابات اور کارروائیوں کا ریکارڈ ایک ڈیش بورڈ پر محفوظ ہوگا، جبکہ سیلز ٹیکس ریٹرنز اور دیگر دستیاب ڈیٹا کی خودکار جانچ پڑتال، تجزیے اور کراس میچنگ کے عمل کو چینج ریکوئسٹ فارم (سی آر ایف) کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔

متعلقہ افسر ان لینڈ ریونیو رجسٹرڈ شخص کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب کا جائزہ لے گا۔ ضرورت پڑنے کی صورت میں سیلز ٹیکس ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کی متعلقہ دفعات کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔

ایف بی آر کے مطابق نئے طریقہ کار کا مقصد کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے سیلز ٹیکس ریٹرنز کی جانچ پڑتال، تضادات کی بروقت نشاندہی اور رجسٹرڈ افراد کے ساتھ الیکٹرانک رابطے کے عمل کو مؤثر بنانا ہے۔

More News