این ایچ اے کے جاری اور مجوزہ منصوبوں سے متعلق اہم فیصلے
اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے جاری اور مجوزہ منصوبوں سے متعلق اہم فیصلوں اور تجاویز کی منظوری دے دی گئی۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں این ایچ اے کے مختلف منصوبوں، مالی معاملات، آمدن میں اضافے اور سڑکوں کی حفاظت سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ این ایچ اے نے گزشتہ دو سال کے دوران آمدن میں اضافے کا مقررہ ہدف حاصل کرلیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ موجودہ ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کو نئی سڑکوں کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اجلاس میں آنے والے مہینوں میں مکمل ہونے والے بڑے منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ ان منصوبوں میں لودھراں، ملتان ایکسپریس وے، پنڈی بھٹیاں، فیصل آباد موٹروے کی توسیع اور پشاور ناردرن بائی پاس شامل ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مکمل ہونے والے منصوبوں کا افتتاح وزیراعظم کریں گے۔
این ایچ اے کے جاری منصوبوں کے لیے فنڈز کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ ایم 6 موٹروے اور چاروں صوبوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق حکام نے بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ این ایچ اے ملک کے مجموعی سڑکوں کے نیٹ ورک کے صرف 3.13 فیصد حصے کا انتظام کرتا ہے، تاہم ملک کی 80 فیصد سے زیادہ ٹریفک اسی نیٹ ورک پر چلتی ہے۔ حکام نے ادارے کی گزشتہ اڑھائی سالہ کارکردگی پر وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دینے کی بھی تیاریوں سے آگاہ کیا۔
بلوچستان میں این ایچ اے کے منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت سے 108 ارب روپے کے فنڈز کے حصول کے لیے رابطہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ منصوبوں کی بروقت تکمیل، مالی معاملات اور سڑکوں پر مسافروں کی حفاظت سے متعلق اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
این ایچ اے کے جاری اور مجوزہ منصوبوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں کی تعمیر، توسیع اور بحالی شامل ہے۔ حکام کے مطابق منصوبوں پر پیش رفت اور مالی ضروریات کا جائزہ لے کر آئندہ کے اقدامات طے کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل پارلیمانی کمیٹی نے بھی ایم 6 موٹروے اور این ایچ اے کے مختلف منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا تھا، جبکہ این 5 کے مختلف حصوں کی بحالی اور بہتری سے متعلق منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔








