بانی پی ٹی آئی رہائی فورس معاملہ: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا آئینی عدالت میں جواب جمع
اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی رہائی فورس سے متعلق دائر آئینی درخواست کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے آئینی عدالت میں اپنا تفصیلی جواب جمع کرا دیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے ذریعے جمع کرائے گئے 8 صفحات پر مشتمل جواب میں درخواست کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ “بانی پی ٹی آئی رہائی فورس” کے نام سے کبھی کوئی تنظیم قائم نہیں کی گئی۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ اصل اقدام “بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک” ہے، جو ایک مکمل طور پر پرامن، غیر مسلح اور رضاکارانہ عوامی تحریک ہے۔ حکومتِ خیبرپختونخوا کے مطابق اس تحریک کا کسی بھی قسم کے مسلح ڈھانچے، نجی ملیشیا یا عسکری سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس کے تحت کسی شخص کو ہتھیار اٹھانے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ درخواست سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے دائر کی گئی ہے اور اس کی بنیاد حقائق کے بجائے مفروضوں اور غلط بیانی پر رکھی گئی ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ درخواست گزار کسی بھی بنیادی حق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے یہ آئینی درخواست قبل از وقت، ناقابلِ سماعت اور قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتی۔
جواب میں مزید کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 16، 17 اور 19 شہریوں کو پرامن اجتماع، تنظیم سازی اور اظہارِ رائے کی آزادی فراہم کرتے ہیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک انہی آئینی حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کر رہی ہے۔ اس لیے اس تحریک کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور اسے غیر قانونی قرار دینے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 256 کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ مذکورہ تحریک نہ تو نجی مسلح تنظیم ہے اور نہ ہی اس کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کو چیلنج کرنا ہے۔ اسی طرح پرائیویٹ ملٹری آرگنائزیشنز ایکٹ 1973ء بھی اس تحریک پر لاگو نہیں ہوتا۔
جواب میں امن و امان کو لاحق خطرات سے متعلق تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ رہائی امن تحریک کا ماضی کی کسی بھی مسلح یا کالعدم تنظیم سے موازنہ گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے۔ حکومت کے مطابق تحریک کا مقصد صرف پرامن اور آئینی طریقے سے اپنے مطالبات پیش کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ آئینی درخواست کو ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کیا جائے اور بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک کو آئین اور قانون کے مطابق قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ آئینی عدالت اس معاملے میں پہلے ہی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے جواب طلب کر چکی ہے، جبکہ اس درخواست کی آئندہ سماعت 29 جولائی کو مقرر کی گئی ہے، جہاں فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔








