بجلی صارفین کیلئے بری خبر، فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 72 پیسے اضافے کا امکان

بجلی صارفین کیلئے بری خبر، فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 72 پیسے اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک اور مالی بوجھ کی تیاری کی جا رہی ہے، جہاں بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔ اگر اس اضافے کی منظوری دی جاتی ہے تو اس کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر ہوگا، جس سے گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کے ماہانہ بجلی کے بل مزید بڑھ سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے اپریل 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کے لیے قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں درخواست جمع کرا دی ہے۔ نیپرا اس درخواست پر آج سماعت کرے گا، جس کے بعد تمام متعلقہ فریقین کے مؤقف اور اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے گا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپریل کے دوران بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں اضافہ ہوا، جس کے باعث صارفین پر اضافی مالی بوجھ منتقل کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ اگر نیپرا درخواست منظور کر لیتا ہے تو بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے فی یونٹ اضافہ صارفین سے آئندہ بلوں میں وصول کیا جائے گا۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا نظام بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کے اثرات صارفین تک منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم مسلسل بڑھتے ہوئے بجلی کے نرخ عوام اور کاروباری طبقے کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

ممکنہ اضافے کی صورت میں گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ صنعتوں، دکانوں اور تجارتی مراکز کے بجلی اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں کاروباری لاگت بڑھنے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب صارفین اور مختلف کاروباری تنظیموں نے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کی بلند شرح اور بڑھتے ہوئے یوٹیلیٹی بل عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنے ہوئے ہیں، ایسے میں بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ عام شہریوں کی مالی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

نیپرا کی سماعت کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ صارفین کو بجلی کی قیمت میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا یا نہیں۔

More News