غیر قانونی فاسفیٹ کان کنی سے قومی خزانے کو 84 کروڑ روپے تک نقصان پہنچنے کا انکشاف
پشاور: قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختونخوا کی تحقیقات میں ایبٹ آباد کے علاقے کاکول میں مبینہ غیر قانونی فاسفیٹ کان کنی کے ایک بڑے معاملے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ قیمتی جنگلات بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
نیب ذرائع کے مطابق تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ کاکول کے جنگلاتی علاقے سے غیر قانونی طور پر فاسفیٹ نکالنے کے باعث قومی خزانے کو تقریباً 74 کروڑ روپے سے لے کر 84 کروڑ 80 لاکھ روپے تک مالی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ ماحولیات اور جنگلاتی وسائل کو بھی ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تحقیقات کا آغاز مقامی شہریوں کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے بعد کیا گیا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ کاکول کے رہائشی زر گل خان جنگلاتی اراضی سے غیر قانونی طور پر فاسفیٹ نکال کر مختلف کھاد ساز کارخانوں کو فروخت کر رہے ہیں۔ شکایت موصول ہونے کے بعد متعلقہ اداروں نے ابتدائی جانچ پڑتال کی، جس میں الزامات بظاہر درست پائے گئے، جس کے بعد نیب نے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دیں۔
تحقیقی ذرائع کے مطابق یہ سرگرمیاں کئی برسوں تک جاری رہیں۔ الزام ہے کہ 2010 سے 2018 کے دوران محکمہ معدنیات کے بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے جنگلاتی علاقوں سے بڑی مقدار میں فاسفیٹ نکالا گیا۔ اس دوران سرکاری قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا اور معدنی وسائل کے غیر قانونی استعمال سے قومی مفادات کو نقصان پہنچایا گیا۔
فاسفیٹ ایک اہم معدنی وسیلہ ہے جو کھاد سازی اور زرعی شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس معدنیات کی غیر قانونی کان کنی نہ صرف قومی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ قدرتی ماحول، جنگلات اور مقامی ماحولیاتی نظام کو بھی متاثر کرتی ہے۔ کاکول کے جنگلاتی علاقے میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث درختوں، جنگلی حیات اور زمین کی قدرتی ساخت کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ قومی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور مستقبل میں اس نوعیت کی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔








