نئے مالی سال کے لیے 43 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی منصوبے کی منظوری،

نئے مالی سال کے لیے 43 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی منصوبے کی منظوری، صوبے تین چوتھائی فنڈنگ فراہم کریں گے

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 43 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر خطیر رقم خرچ کی جائے گی جبکہ مجموعی ترقیاتی اخراجات کا تقریباً تین چوتھائی حصہ صوبائی حکومتیں برداشت کریں گی۔ اس منصوبے کی حتمی منظوری قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں دی جائے گی جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔

سالانہ پلان رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں نئے مالی سال کے لیے 42.64 کھرب روپے کے مجموعی قومی ترقیاتی بجٹ کی سفارش کی گئی۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔ کمیٹی نے وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 11.26 کھرب روپے مختص کرنے کی سفارش بھی کی، جس میں 267 ارب روپے بیرونی امداد شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ ترقیاتی پروگرام کے لیے مزید 200 ارب روپے کی مالی گنجائش پیدا کی جائے تاکہ اہم قومی منصوبوں کے لیے درکار وسائل فراہم کیے جا سکیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ محدود مالی وسائل کے باوجود ترقیاتی سرگرمیوں کو جاری رکھنا ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔

احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اتحادی جماعتوں کی سفارش کردہ ترقیاتی سکیموں کے لیے 87 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم تقریباً ان فنڈز کے برابر ہے جو داسو، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے اہم آبی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ داسو اور دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 25، 25 ارب روپے جبکہ مہمند ڈیم کے لیے 39 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

وفاقی حکومت نے سرکاری بنچوں کے اراکین اسمبلی کی ترقیاتی سکیموں کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ ہر رکن اسمبلی کی سفارش کردہ منصوبے کے لیے 50 کروڑ روپے تک فنڈ فراہم کیے جائیں گے۔

وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے درکار مجموعی رقم بڑھ کر 108 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ موجودہ رفتار سے فنڈز کی فراہمی جاری رہی تو ان منصوبوں کی تکمیل میں تقریباً ایک دہائی لگ سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ مالی سال میں قومی اہمیت کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے جو معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں۔

صوبائی ترقیاتی بجٹ کے مطابق پنجاب 1450 ارب روپے، سندھ 816 ارب روپے، خیبرپختونخوا 564 ارب روپے جبکہ بلوچستان 308 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے گا۔ پنجاب کا ترقیاتی بجٹ وفاقی ترقیاتی پروگرام سے بھی زیادہ ہے، جبکہ خیبرپختونخوا نے گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

More News