بجٹ 2026-27: ہاؤسنگ بحران کے باوجود وزارت ہاؤسنگ کے ترقیاتی فنڈز میں 8 ارب روپے سے زائد کمی کی تجویز
اسلام آباد: ملک میں ایک کروڑ سے زائد گھروں کی کمی اور سالانہ تقریباً 10 لاکھ نئے ہاؤسنگ یونٹس کی ضرورت کے باوجود آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے ترقیاتی فنڈز میں نمایاں کمی کی تجویز سامنے آئی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق ترقیاتی اخراجات میں یہ کمی ایسے وقت کی جا رہی ہے جب ملک کو بڑھتے ہوئے ہاؤسنگ بحران کا سامنا ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 کے مطابق وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے صرف 4 ارب 82 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ رواں مالی سال میں اسی مد میں 13 ارب 44 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ اس طرح ترقیاتی فنڈز میں 8 ارب 62 کروڑ روپے سے زائد کمی تجویز کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزارت ہاؤسنگ کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی لاگت 40 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے، تاہم محدود فنڈز کی وجہ سے متعدد منصوبوں کی تکمیل اور پیش رفت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فنڈز میں کمی سے سستے اور متوسط آمدن والے طبقے کیلئے رہائشی سہولیات کی فراہمی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ترقیاتی ترجیحات میں کراچی کے شہری انفراسٹرکچر منصوبوں کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے۔ کراچی کے گرین لائن بی آر ٹی منصوبے کیلئے تقریباً 1 ارب 98 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جو وزارت کے ترقیاتی پروگرام میں سب سے بڑی فنڈنگ سمجھی جا رہی ہے۔
اسی طرح اورنگی ٹاؤن، ناظم آباد اور لیاقت آباد میں سڑکوں، واٹر سپلائی، سیوریج اور پارکس کی بہتری کیلئے 1 ارب 10 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژن میں پانی کی فراہمی اور بنیادی شہری سہولیات کے منصوبوں کیلئے بھی فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید برآں مانسہرہ میں سائرن ندی پر دو بڑے پلوں کی تعمیر کیلئے 68 کروڑ روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ہاؤسنگ بحران کے تناظر میں ترقیاتی فنڈز میں کمی مستقبل میں رہائشی مسائل کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔








